AIOU

معاشرتی انتشار سے کیا مراد ہے؟ نیز جنگ اور سیاسی بحران میں فرق بیان کریں

معاشرتی انتشار اور بے نظمی کا مطالعہ

کسی معاشرے میں انتشار اس وقت نمودار ہوتا ہے جب روایتی  اقدار کا احترام افراد کے دلوں سے اٹھ جاتا ہے اور خارجی اقدار واطوار غلبہ ہو جاتا ہے۔ روایتی اقدار یا تو بالکل مسمار ہو جاتی ہیں یا اس قدر کمزور ہو جاتی ہیں کہ وہ معاشرے کو سہارا دینے کی سکت نہیں رکھتیں۔ معاشرتی انتشار اور بے نظمی کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرتی آداب سے ترتیب استحکام اور استقلال کی صفات غائب ہونے لگتی ہیں۔ افراد کے کردار میں ناہمواری آجاتی ہے اور لوگ پرانی روش پر چلنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اس لئے ماہرین معاشرتی بے نظمی کی تشریح کرتے وقت عام لوگوں کے کردار کی ناہمواری کو ضرور ذہن میں رکھتے ہیں ۔تشریح  اس طرح کی جاتی ہے کہ ماہرین سب سے پہلے عام سیرت و کردار کی ان شکلوں کی وضاحت کرتے ہیں جو مسئلے  کا آغاز ہونے سے پہلے موجود  تھیں۔ پھر اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ افراد کے کردار معاشرتی تبدیلیوں کے زیراثر کس طرح پارہ پارہ ہوئے اور اس کے بعد ان تجاویز کو زیر غور لایا جاتا ہے جو حالات کو سازگار بنانے میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔

 جنگ اور سیاسی بحران میں فرق   

جنگ یا سیاسی بحران

ہر معاشرے میں امن و سکون کی بحالی اور تنظیم برقرار رکھنے کیلئے سیاسی استحکام لازمی ہوتا ہے۔ اگر حکومت یا سیاسی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے سے قاصر رہیں تو ملک انتشار کا شکار ہو جا تا ہے اور لاقانونیت پھیل جاتی ہے۔ خودغرض اور بد کردار افراد اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے جرائم بے راہ روی اور انتشار پھیلتا ہے۔ اس قسم کے حالات پیدا کرنے میں جنگ کا بھی کافی دخل ہے۔ وہ معاشرے جہاں جنگ چھٹرتی ہو اندرونی طور پر وہ انتشار ،بدنظمی ا ور مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں

چونکہ حکومت کی پوری توجہ دشمن سے مقابلے پر ہوتی ہے۔ ملک کے اندرونی معاملات پر توجہ کم ہو جاتی ہے۔ اس موقع سے مجرم اور ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ معاشی حالات پر بھی جنگ کا برا اثر ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے۔ اشیاء کا ملنا دشوار ہو جا تا ہے۔ ان حالات میں اسمگلنگ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، اشیاء کی مصنوعی قلت جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جنگ کے خاتمے پربھی کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ مثلا جنگ میں مرد کام آجاتے ہیں عورتیں اور بچے بے سہارا رہ جاتے ہیں جس سے مزید کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔

Back to top button