AIOU

اہم ثقافتی تصورات سے کیا مراد ہے؟ ان تصورات کی روزمرہ زندگی سے کیا تعلق ہے ؟ وضاحت کریں

 اہم ثقافتی تصورات

ذیل میں چند اہم ثقافتی  تصورات کی تعریف اور مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔

 ثقافتی خاصہ

 ثقافتی مرکب

 ثقافتی اسلوب

 ذیلی ثقافت

 ثقافت پذیری

 ثقافتی  مماثلت

 ثقافتی تغير

ثقافتی خلاء

ثقافتی خاصہ

 کسی بھی معاشرے کی ثقافت کی سب سے چھوٹی اکائی کو ثقافتی خاصہ کہتے ہیں ۔ آسان الفاظ میں کی ثقافت کی کوئی سب سے چھوٹی چیز یا رویہ جو خودمختار ہو اور اس کو مزیدتقسیم  نہ کیا جا سکے اس کا ثقافتی خاصہ کہلاتی ہے۔ ثقافتی خاصہ مادی ہوسکتا ہے اور غیر مادی بھی ۔ پاکستانی ثقافت میں موجود مادی ثقافتی خاصے کی مثال دوپٹہ شلوار پگڑی وغیرہ شامل ہیں ۔ اسی طرح غیر مادی ثقافتی خاصوں کی مثال گلے ملنا، شادی کے موقع پر ان دلہن کو تحفے  دینا، ہماری زبان کا کوئی لفظ وغیرہ شامل ہیں۔

ثقافتی مرکب

جب بہت سے ثقافتی خاصے کسی  وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں تو تب انہیں ثقافتی مرکب کہا جاتا ہے۔ ثقافتی خاصہ خود سے کی اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دوسرے ناموں کے ساتھ ربط یاتعلق نہ ہو۔ ثقافتی مرکب کی مثالوں میں شادی، نماز ،لباس وغیرہ شامل ہیں۔ اب اگر ہم غور کریں تو ایک شادی میں بہت ساری رسموں کی صورت میں ثقافتی خاصے نظر آئیں گے۔ اسی طرح نماز کے لئے وضو کرنا، رکوع وسجود وغیرہ شامل ہیں۔

ثقافتی اسلوب

کسی ثقافت کی اکائیوں کے درمیان باہمی تعلق کو ثقافتی اسلوب کہتے ہیں ۔ یہ اکائیوں کے در میان ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ جس سے کسی ثقافت کی غالب اور نمایاں خصوصیات نظر آتی ہوں ۔ مثلا پاکستان میں شادی کے سلسلے میں منگنی ، مہندی، نکاح، جہیز، ولیمہ سب شادی کے اسلوب ہیں۔

ثقافت پذیری

جب ایسے دوگروہ یا افراد آپس میں ملیں جن کی ثقافت مختلف ہو تو چند چیزیں ایسی ہوں گی جو وہ ایک دوسرے سے سیکھیں گے لیکن اس کے باوجود ان میں ان کی اپنی ثقافت کی پہچان باقی  رہے۔ اس عمل کو ثقافت پذیری کہتے ہیں  پاکستان میں رہتے ہوئے بھی اس کے مختلف صوبوں کے لوگوں کی اپنی ثقافت ہے۔ اگر چہ پٹھان کچھ  چیزیں سندھی، بلوچی اور پنجابی تہذیبوں سے سیکھتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی اپنی ایک الگ شناخت بھی ہے۔ لیکن ان کو دیکھنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کس ذیلی ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں۔

 ثقافتی مماثلت

ثقافتی مماثلت ایسا معاشرتی عمل ہے جس سے مختلف ثقافت رکھنے والے دو یا زائد افراد یا گروه دوختلف تہذیبوں کو قبول کر لیں۔ اور ایک دوسرے کے طور پر عمل کریں۔ یہاں تک کہ ان میں مختلف ثقافتوں کی پہچان  باقی نہ رہے۔

امریکہ ثقافتی  مماثلت کی بہترین مثال ہے۔ اس میں اس کے اصل باشندوں کی تعداد بہت کم ہے۔ وہاں زیادہ تر آباد کارجرمنی  اور کئی دوسرے ممالک سے آئے ہوئے ہیں ۔ ان سب آباد کاروں کی ثقافت الگ الگ تھی لیکن اب ان میں اس مخصوص ثقافت کے آثار نظر نہیں آتے بلکہ ان سب نے مل کر ایک نئی ثقافت کو جنم دیا ہے جو کہ ان کی موجودہ ثقافت ہے۔

ثقافتی  تغیر

انسان میں فطری طور پر تجسس کا مادہ ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تبدیلی کا خواہاں رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے منصب اور کار منصب میں بھی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ یہ تبدیلی معاشرتی اداروں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ کیوں کہ معاشرے میں تمام معاشرتی ادارے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ اگر ایک ادارے میں تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر دوسرے ادارے پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اداروں میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ عمرانیات کی زبان میں ان تبدیلیوں کے لئے معاشرتی تبدیلی یا معاشرتی تغیر کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

ثقافتی خلا

 موجودہ دور میں سائنسی ترقی کی وجہ سے تیزی سے آنے والی تبدیلیوں نے بڑی حد تک معاشرتی مطابقت کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔معاشرتی مطابقت کا مسئلہ دو طرح سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک تو انسان اس تبدیلی کیساتھ مطابقت پیدا نہیں کرسکتا۔ دوسرا ثقافت کے مختلف حصے ایک دوسرے سے مطابقت نہیں کر پاتے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ثقافت کے مختلف حصے ایک رفتار سے تبدیل نہیں ہوتے۔ بعض حصے بڑی تیزی سے ترقی کر جاتے ہیں اور وہ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ثقافت سے تعلق رکھنے والے باقی ادارے اور حصے بھی اسی رفتار سے ترقی کریں اور تبدیلی کو قبول کریں۔ مثلا صنعت اور تعلیم کے شعبوں کو لیں اگر کسی ملک میں صنعت ترقی کر جاتی ہے تو وہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تعلیمی میدان میں بھی ترقی ہوتا کہ مجموعی طور پر تبدیلی کو قبول کرتے ہوئے ترقی کی جائے۔

 ذیلی ثقافت

جیسے جیسے کسی معاشرے کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس میں ایسے گروہ پائے جاتے ہیں کہ جن کا طرز زندگی ، عقائد خیالات کسی نہ کسی  حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اختلاف ان گروہوں کی ایسی ایک الگ شناخت کا باعث بھی بنتا ہے۔ کسی بڑے معاشرے میں موجودانہی مختلف ثقافتی خصوصیات رکھنے والے گروہوں کی ثقافت کو ذیلی ثقافت کہتے ہیں ۔ یہ ذیلی ثقافتیں اپنی اپنی خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے بڑی ثقافت کا حصہ ہوتی ہیں ۔ جیسے پاکستان کی قومی ثقافت میں پنجابی ، سندھی، سرائیکی ، بلوچ، پٹھان اور کشمیری وغیرہ کی ذیلی  ثقافتیں موجود ہیں ۔

Back to top button