کالم

سندھ میں دو قوموں کی حقیقت

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

تحریکِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کی ابتدا و انتہا پروان ہندوستان سے شروع ہوئی جو ایک عالمگیر تحریک بن کر دو قومی نظریہ ہندو مذہب اور اسلام مذہب کے جداگانہ نظریہ کے تحت پھیلی۔ قائداعظم محمد علی جناح برطانیہ سے سیدھا ہندوستان آئے اور وکالت کیساتھ ساتھ سیاست میں داخل ہوئے ابتدا میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی لیکن بہت جلد ان کے عزائم کو بھانپ لیا جب آپ کو یقین ہوگیا کہ کانگریس صرف ہندؤں کے مفادات و تحفظات پر مرکوز ہے تو آپ نے مسلم سیاستدانوں کیساتھ آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی جس میں جوق در جوق مسلمان شامل ہوتے گئے حتیٰ کہ یہ سیاسی کاروان سندھ پنجاب بلوچستان اور فاٹا تک پھیل گیا۔

جی ایم سید نے حمایت کی اسی طرح پنجاب میں علامہ اقبال کا کردار بہت بڑی اہمیت کا حامل رہا ھے علامہ اقبال نے تحریک پاکستان کو اپنے کلام سے خون گرمائے رکھا اور ایمان کی تازگی کیلئے اشعار سے شعور بیدار کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنان و ہمدرد لاکھوں کی تعداد نے اپنی جانوں اور املاک کی قربانیاں دیکر مسلم اکثریتی علاقوں پر پاکستان معروضِ وجود میں آیا اس وقت پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا ایک مشرقی پاکستان جو سنہ انیس سو اکہتر کو حکمران کی غداری کے سبب بنگلہ دیش بنا اور یوں غدار و سازشی عناصروں نے چار صوبوں تک محدود رکھتے ہوئے پاکستان بنائے رکھا۔۔۔۔

معزز قارئین

سنہ انیس سو سینتالیس کو سب سے زیادہ سندھ میں آکر مہاجر آباد ھوئے۔ ہجرت کے وقت قائداعظم محمد علی جناح نے ایک معاہدہ طے کیا تھا کہ جو مہاجرین نقل مکانی کریں گے وہ اپنی املاک کا بدل پائیں گے یعنی بھارت سے پاکستان جانے والوں کو متروکہ املاک کلیم میں دیں جائیں گی اسی طرح پاکستان سے ہندوستان آنے والے ہندؤں کو ہندوستان میں متروکہ املاک ملیں گی۔ ہندوستان میں تو ہندؤں کو متروکہ املاک مل گئیں لیکن یہاں پاکستان میں تحریک پاکستان کے مہاجرین کیساتھ دھوکہ کیا گیا اور ان کے حق سے محروم کرتے ہوئے متروکہ املاک سے محروم رکھا گیا۔ یاد رہے کہ سندھ میں دو بڑی قومیں آباد رہتی ہیں ابتدائی دنوں میں کی جانے والے حق تلفی کا ازالہ تو نہیں کیا گیا البتہ تعصب و لسانیت کے شہنشاہ ذوالفقار علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم لاگو کرکے ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کردیا یہ سلسلہ ستر سالوں سے تاحال جاری ھے اور نجانے کب تک رہیگا۔۔۔۔

معزز قارئین

سندھ دو قوموں پر مشتمل ھے شہری علاقوں میں مہاجروں کی اکثریت اور دیہی علاقوں میں سندھیوں کی۔ افسوس کا مقام ہے کہ یہاں کبھی بھی عدل و انصاف نہیں رہا سیاسی بنیادوں پر غلط اعداد و شمار پیش کیئے جاتے رہیں ہیں ٹیکس شہری علاقے ادا کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ رقم دیہی علاقوں پر صرف ہوتی رہی ہیں۔ بھٹو سے لیکر زرداری تک کا دور دیکھیں تو صرف سندھی قوم کو صحیح غلط ہر طریقے سے نوازنے کا عمل جاری رہا یقین جانیئے کہ ان کے اس عمل سے اللہ کی قدرت کا نظارہ واضع نظر آتا ھے ۔۔۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خدا ہوتا ھے یارو۔۔۔ چاروں اطراف مہاجروں پر پابندی لگانے کے باوجود ان کی نسلیں ترقی و کامرانی سے محروم نہیں ہوئیں۔ مہاجر نسل کیلئے تعلیم کے دروازے بند کیئے تو اللہ نے بہترین تعلیم سے نوازا۔

مہاجر نسل کیلئے روزگار کے دروازے بند کیئے تو اللہ نے کئی در کھول دیئے ستر سالوں سے ظلم و زیادتی کے پہاڑ کھڑے کیئے مگر اپنی قوم کو اس منزل تک نہیں پہنچاسکے جہاں آج مہاجر کا بچہ پہنچا ھوا ھے بیشک قرآن کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ کسی کی حق تلفیوں کے بعد سے کبھی بھی نہ آباد ہوسکتے ہیں اور نہ ہی باشعور با وقار اور بلند۔ مہاجر قوم کیساتھ ایک ایسا دھوکہ و فریب بھی کیا کہ انہیں میں سے بدکرداروں کے ذریعے قوم کی نسل کو گندی سیاست میں دکھیلا اور ہزاروں جوان کو قتل اور بیشتر کا مستقبل تاریک کیا یہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم تھی اور اس سے نکلے ہوئے اب بھی بہکانے گمراہ کرنے سے باز نہیں آرہے لیکن اب مہاجر نسل انہیں پہچان چکی ہیں اور انکی کسی بھی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

اب وقت آگیا ھے کہ ان دونوں قوموں کو مسلمان ھونے کے سبب ایک ھوجانا چاہئے کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ھے اب بھی اگر نفرت تعصب عصبیت لسانیت کی آگ میں جلتے رہے تو خدا کی قسم جس نے نفرت و تعصب کو ہوا دی ان کے وجود رب نسلوں تک مٹا دیگا دنیا میں وہی شاد و آباد رہے ہیں جس نے اللہ و رسول کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کی قدر کی جو ابلیس کے نقشِ قدم پر چلا وہ یقیناً ذلیل و رسوا رہا۔ جان لیجئے کہ نہ سندھ سے سندھی کا خاتمہ ممکن ھے اور نہ ہی مہاجروں کا خاتمہ ہوسکتا ھے یہ دو قومیں اس سرزمین کی حقیقتیں ہیں جس کا انکار سوائے بربادی و تباہی کے کچھ حاصل نہیں بہتر یہی ھے کہ باہم اخلاق و پیار ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے سندھ کی ترقی میں سب مل کر اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ قرآن پاک میں شداد فرعون کا ذکر بار بار آیا ھے اور اللہ نے ان کی بے پناہ طاقت کا بھی ذکر کیا ھے اور انجام بربادی و رسوائی سب کچھ خاص طور پر انسانوں کیلئے نشانیاں رکھی گئیں تاکہ عقل و شعور کیساتھ ایسی غلطیوں سے باز رہیں۔

نہ بھٹو زندہ ہے نہ بینظیر ہمیشہ قائم و دائم رہنے والے ذات اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ھے جس کا خود رب نے زکرِ بلند کیا ھے۔ ہم سب سندھ میں رہنے والوں کو شاہ لطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ اور سچل سرمست جیسے روحانی بزرگانِ دین کے اسلوب و تعلیمات کو پھیلانا چاہیئے پیار و محبت عقیدت ایثار و قربانی سے ہی بہترین معاشرہ تشکیل پاتا ھے اللہ ہم سب سندھیوں اور مہاجروں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ہمیں صراط المستقیم پر چلاتے ہوئے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار فرمائے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button