AIOU

معاشرتی منصوبہ بندی کی کامیابی انحصارنگرانی پر منحصر ہے۔ وضاحت کریں

معاشرتی منصوبہ بندی اورنگرانی

 کامیاب منصوبہ بندی کا دارومدار کافی حد تک نگرانی پرمنحصر ہے۔ ادارہ چا ہے تجارتی ہو یا فلاحی ، سرکاری یا غیر سرکاری اس کی کامیاب منصوبہ بندی اس کی نگرانی سے ہی بنتی ہے۔ دراصل نگرانی ، انتظامیہ کا ایک اہم حصہ ہے اور خود انتظامیہ کی کامیابی صحیح نگرانی پرمنحصر ہے۔ لیکن صحیح نگرانی کیلئے یہ ضروری ہے کہ نگر ان کا انتخاب ان کی اہلیت، ذہنی پختگی، قیادت کے جذبے اور تربیت کی بنیاد پرکیا جائے۔

 تعريف

کورین ایچ وولف کے مطابق

نگرانی ایک انتظامی قیادت ہے۔ ایسی قیادت جس کا مقصد سٹاف کے ہر فرد کی صلاحیتیوں عمل کوفروغ دینا اور سٹاف کے کاموں کی پوری طور پر رہنمائی کرنا ہے۔ تا کہ ادارے کی طرف سے موکل کوفراہم کردہ سہولتیں بہتر ہو جائیں۔ اس طرح نگرانی سٹاف کی تربیتی پروگرام کا ایک لازمی جزو ہے۔ ادارے گروہی اور انفرادی نگرانی دونوں بیک وقت استعمال کرتے ہیں اور دونوں ادارے کیلئے منصوبہ میں الگ مقام رکھتے ہیں۔

نگرانی کے اصول

 کسی بھی ادارے کی کامیابی کیلئے وہاں کے اراکین اور انتظامیہ کے درمیان خوشگوار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے انتظامیہ کی پالیسی واضح ہونی چاہئے اور اس پر اس طرح عمل درآمد کرنا چاہئے ۔صرف زبانی اقرار کرنا کافی نہیں موثر نگرانی کیلئے چند اصول ضروری ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

 کارکن اورنگران کاتعلق

نگر ان کا پہلا فرض ہے کہ وہ کارکن کو بتائے کہ کہاں تک نگران اس کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ لیکن یہ اس وقت موثر ہو گا جب ہر کارکن کو یہ بتایا جائے کہ اس سے کیا توقع کی جاتی ہے۔ کارکن کی کارکردگی کا امتحان لینے کیلئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معیار پر رکھا جائے اور ہر کارکن کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔

 حقوق کا تحفظ

عام طور پر جس اصول کی طرف سب سے کم توجہ دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جوبھی جس کاحق ہے وہ اس کو فورا دیا جائے۔ زیادہ تر نگران اپنے ماتحتوں کی غلطیوں میں ذرا بھی توقف سے کام نہیں لیتے لیکن جب اس کی کارکردگی اچھی ہو اس کی محنت کو مدنظر رکھ کر اس کی تعریف نہیں کرتے اس سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کارکن اپنی کوشش کم کر دیتا ہے۔

 مواصلات

 نگرانی کے تیسرے اصول کا تعلق مواصلات کے شعبے سے ہے۔ کارکن کی بددلی کی ایک وجہ انتظامیہ اور کارکنوں کے درمیان رابطہ نہ ہونا ہے۔ انتظامیہ کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے فیصلوں کا کارکنوں پر کیا اثر ہے اور وہ ان سے متفق ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف کارکنوں کو موقع تک نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنی رائے کا اظہارکرسکیں اور انتظامیہ اپنے فیصلوں کی وجوہات کارکنوں کو بتانا  ضروری سمجھتی ہے۔

 انسانی تعلقات

نگرانی کے چوتھے اصول کی بنیاد انسانی تعلقات کے فلسفہ مبنی ہے کہ ہر فرد کی صلاحیتوں کا پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہے‘ ۔  ایک اچھا نگران اس بات کو سمجھتا ہے کہ اس کے ماتحت مختلف افراد ہیں اور اس لئے ان میں سے اپنی اپنی صلاحیت کے لحاظ سے ایک مخصوص کام کرنے کا اہل ہے اور ان کے مطابق اس کو کام کر نے کا موقع فراہم کیا جائے۔

نگر ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت کارکنوں کو سمجھے اور ان صلاحیتوں کو معلوم کر کے ان کو بڑھائے۔ ایک تربیت یافتہ نگران رفتہ رفتہ اپنے ماتحتوں کی فنی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے اس لئے خودنگر ان کی کامیابی کا اندازہ اس کے ہاتھوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی سے لگایا جانا چا ہے۔

باہمی کاروبار

ایک اچھا نگران اپنے ہاتھوں اور کارکنوں کے خیالات و جذبات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ان سے باخبر رہتا ہے۔ لیکن وہ ان کے جذبات اور احساسات کو اسی وقت کے طور پر سمجھ سکتا ہے۔ جب اس میں اپنے ماتحتوں کیلئے ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ کارکن ایک انسان ہے جس سے زبردستی کام نہیں لیا جاسکتا۔ بلکہ نگر ان کاغلط رویہ  کارکن کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

 ایک دوسرے کا احترام

نگران اور کارکن تعلق قائد اور ہیرو کا  تعلق ہے۔ ایک نگران اسی وقت تک کامیاب رہ سکتا ہے جبکہ اس کے ماتحت اس کی عزت کرتے ہیں۔ جب نگران اور کارکن کے تعلق خراب ہوجاتے ہیں تو پھر جھگڑے اور ہڑتالیں عام ہو جاتی ہیں۔ جس سے ادارے کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے ایک اچھے نگران میں انسانی عنصر اور جمہوری اقدار کاپایا جانا ضروری ہے اور یہی اس کی کامیابی کا راز ہے۔

نگران کے اوصاف

عملی صلاحیتیں

نگر ان کی کامیابی کا دارومدار بہت سی باتوں پر ہوتا ہے۔ جن میں اس کا علم فنی صلاحیتیں اور شخصیت خاص طور پر بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک اچھے نگر ان کے پاس ایسے اختیارات ہونے چاہئیں۔ جن کے ذریعے وہ اپنے ماتحت کو بہتر کارکردگی کی ترغیب دے سکے۔ مثلا تنخواہوں میں اضاف کردینایاسالا نہ تر قی کو پیشگی  دینا۔ یہ بات عام فہم ہے کہ زبانی تعریف سے زیادہ انعام و اکرام کارکردگی کو بڑھانے میں مؤثر ہوتے ہیں۔

 اختیارات

 بالکل اسی طرح نگر ان کو یہ اختیار بھی ہونا چاہئے کہ وہ مستحق  کو نواز سکے اور زیادتی کرنے والے کو سزا د ے سکے تا کہ دوسروں کیلئے عبرت کا کام ہو۔

 معيار

نگر ان کے پاس ایک مستند معیار ہونا چاہئے اور تمام کارکنوں کے کام کو اسی معیار کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔ تا کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ مل سکے اور نہ کسی کے ساتھ نا انصافی ہو، تمام کارکنوں کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا چاہئے ۔ تا کہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔

 باہمی اعتماد

 نگران کو انتظامیہ اور کارکنوں دونوں کا اعتماد ہونا چاہئے تا کہ وہ انتظامیہ کو کارکنوں کے ردعمل سے آگاہ کر سکے اور ساتھ ہی کارکنوں کو انتظامیہ کے فیصلوں اور پالیسی کی وضاحت کر سکے۔ نگران کو غیر جانبدار اور دور اندیش ہونا چا ہئے ۔ نگر ان کی عزت اس کی فنی صلاحیتوں اور شخصی خوبیوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس لئے ایک اچھے نگر ان کو ایسی حرکت نہیں کرنا چاہے ۔ جس کی وجہ سے کارکن اس کی عزت کرنا چھوڑ دیں اور وہ اپنے ہماتحتوں کا اعتماد کھو بیٹھے۔ عزت کا یہ عنصر طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔یہ  ایک ایسی چیز ہے جوصرف خلوص اور محنت سے حاصل کی جاسکتی ہے نگر ان کو انتظامی امور میں ماہر ہونا چاہئے ورنہ ماتحت اس کی عزت نہیں کرینگے۔

 دوراندیشی

 نگران کو چاہئے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی کوتاہیوں کیلئے خود کو بھی ذمہ دار ٹھہرائے اور ان کی شکایتوں کو غیر جانبداری سے انتظامیہ کے سامنے رکھے۔ اس لئے نگران کو فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے اور اسے ایک پختہ ذہن کا مالک ہونا چاہئے۔

 صلاحیت

نگران کو تربیت یافتہ ہونا چاہئے اور وقتا فوقتا اس کو تربیتی کورسز اور عملے کے اجلاس میں شریک ہوناچاہئے تا کہ وہ دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکے اور نئے تصورات و رجحانات اور تکنیکوں سے باخبر رہے۔ موجودہ تیز رفتار دور میں صرف اسی طرح وہ اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔

 خداترس

نگران کو انسانی تعلقات کے امور سے واقف ہونا چاہئے ۔ کامیاب نگرانی کیلئے انسانی تعلقات کا ناگزیر ہے۔

 طریقہ کار

نگر ان کا طریقہ کار اور رویہ لچکدار ہونا چاہئے تا کہ وہ وقت کا ساتھ دے سکے وہ اپنے ہر ماتحت کی ضروریات اور مشکلات کو سمجھے۔

Back to top button