AIOU

معاشرتی مسائل کی جامع تعریف کریں نیز پاکستان میں معاشرتی مسائل کی صورت حال بیان کریں

 معاشرتی مسائل سے مراد

معاشرتی مسائلسے مراد افراد کسی بھی ریاست کا اہم ستون ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں لوگوں کی بنیادی ضروریات جیسا کی خوراک ، تحفظ ، روزگار وغیرہ کو پورا کرنا سرفہرست ہے۔ جب لوگوں کی یہ بنیادی ضروریات پوری نہ ہو پائیں تو معاشرے میں مختلف نوعیت کے مسائل جنم لیتے ہیں جن کو ہم معاشرتی مسائل کہتے ہیں۔

آج کے پیچیده دور میں چاہے وہ ترقی یافتہ دنیا ہے یا ترقی پذیر مما لک سب کو مختلف نوعیت کے معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔

 معاشرتی مسائل کی تعریف

لینڈ برگ کے مطابق

معاشرتی مسئلہ  انحراف پر مبنی رویے کا نام ہے جو لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کسی خاص سمت میں معاشرے کے بتائے ہوئے حدود سے باہر ہو کر اپناتے ہیں ۔

وضاحت

 اس کی وضاحت ہم یوں بھی کر سکتے ہیں کہ معاشرتی مسائل سے مراد ایک ایسی حالت ہے جس میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ یا یہ ایک ایسے ناپسندیدہ رویہ کا نام ہے جس کو لوگوں کی اکثریت درست کرنا چاہتی ہے۔ معاشرتی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب معاشرے کے رائج کردہ قوانین سے انحراف کیا جا تا ہے۔ معاشرتی مسائل چونکہ رائج نظام معاشرت کے لئے خطرہ ہوتے ہیں اس لئے ان کا بر وقت سد باب ضروری ہوتا ہے  ایسانہ ہو تو یہ معاشرتی استحکام کو چیلنج کرتے ہیں اور اس کے استحکام کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں ۔

معاشرتی مسائل کے عناصر

معاشرتی مسائل کے عناصر درج ذیل ہیں:

ہر معاشرتی مسائل کو لوگوں کی اکثریت نا پسند حالت گردانتی ہے۔

 معاشرتی مسائل کو انفرادی طور پرحل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 معاشرتی مسائل سے لوگوں کی اکثریت براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

 معاشرتی مسائل کی پیچیدگیوں کو سمجھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

  پاکستان کے اہم معاشرتی مسائل

معاشرتی مسائل اور خرابیوں کا سامنا دنیا کے تمام معاشروں کو ہوتا ہے۔ پاکستان بہت سے معاشرتی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اصل مسئلہ  یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں مسائل بہت زیادہ ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان مسائل کو کتنی توجہ دی جاتی ہے اور ان کے حل کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں؟ جب معاشرتی مسائل کو بروقت توجہ نہیں دی جاتی اور ان کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی مسائل معاشرے کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جاتے ہیں اور معاشرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ معاشرہ بدامنی ،منشیات کے استعمال، سمگلنگ ، رشوت ستانی ،غربت، ناخواندگی، بے روز گاری ، عدم تحفظ جیسے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ، معاشی ابتری اور مہنگائی جیسے ایشوز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ان تمام معاشرتی مسائل کا سامنا کررہا ہے جو دیگر ترقی پذیرممالک کو درپیش ہیں ۔ تاہم سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس کے معاشرتی مسائل اور بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں ۔ دور حاضر میں پاکستان کو بہت سارے معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔

 غربت                                                             خواتین کا کم تر معاشرتی مقام

 کثرت آبادی                                                      وسائل کی غیر مساوی تقسیم

 مہنگائی                                                              سیا سی عدم استحکام

 بے روز گاری                                                      دہشت گردی

 بچوں کی مشقت                                                     ناخواندگی

 لاقانونیت                                                         پینے کے لئے صاف پانی بنیادی سہولیات صحت

 نا انصافی                                                            نسلی ولسانی اور فرقہ وارانہ اختلافات

 توانائی کا بحران                                                      انسانی حقوق کے مسائل

 جرائم                                                               انحراف بے راہ روی

 منشیات کا استعمال                                                    رشوت ستانی

 انتقال آبادی                                                       سمگلنگ

جیسے جیسے معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں تو ان میں کئی سماجی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کسی بھی تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال میں لوگوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ نئی جہتوں کو اپنائیں یا پرانی اقدار کے ساتھ منسلک رہیں ۔ ایسی صورت میں عام طور پر معاشرے میں کھچاؤ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ ترقیاتی حکمت عملیوں میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اس ساری کشیدگی اور کھچاؤ کی صورت حال کو پرامن سماجی  ہم آہنگی میں تبدیلی کریں تا کہ یہ مزید آگے بڑھ کر معاشرتی مسائل کا روپ نہ دھار لیں۔ معاشرتی مسائل کے کسی بھی معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس میں سے اہم اثر معاشرہ کے امن واستحکام اور لوگوں کی ہم آہنگی پر پڑتا ہے۔ جس سے معاشرہ میں جارحیت اور عداوت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ جو معاشرے میں عمومی مایوسی  اور بے اطمینانی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ مجموی طور پر معاشرتی مسائل کسی مسئلے کا حل پیش نہیں کرتے بلکہ مسائل کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ لفظ مسئلہ  کے کوئی ایک مستند معنی نہیں ہیں بلکہ اس کے معنی وقت اور جگہ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کسی بھی مسئلہ کے معنی کی نوعیت اور شدت دوختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتی ہے یہ ضروری نہیں کہ جو مسئلہ آج جس نوعیت اور شدت کا ہو وہ کل بھی انہی معنوں میں لیا جائے ۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرتی مسائل کے اثرات معاشرے کے تمام اداروں بشمول خاندان ، معیشت، سیاست، مذہب اورتعلیمی اداروں پر محیط ہیں ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظام خاندان میں قدیم طرز حاکمیت ختم ہو کر جمہوری طرز خاندان نے لے لی ہے۔ جس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ جدید ٹیکنالونی کی وجہ سے نہ صرف زراعت میں انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے بلکہ صنعتوں کو بھی فروغ ملا ہے۔ جہاں ترقی کے ساتھ ساتھ بہت کی سماجی  پیچیدگیوں نے بھی جنم لیا ہے۔ ذرائع آمدورفت نے نہ صرف فاصلوں کو ختم کیا ہے بلکہ شہری سہولتوں کے حصول کو بھی ممکن بنایا ہے جس سے انتقال آبادی شہروں میں جرائم کی تعداد میں اضافہ، مکانوں کی قلت، باقص غذا و صحت  کی صورت حال، لاقانونیت، مہنگائی میں اضافہ جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں بلکہ تعلیم و ہنر کی بنیاد پر روز گار کیلئے مقابلے کی فضا پیدا ہوئی جس سے معاشرتی تناؤ کو فروغ مل رہا ہے۔ کمزور سیاسی وحکومتی نظام کی وجہ سے ناانصافی ، رشوت ستانی، وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم نے ایک مقابلے اور عدم اتکام کی فضا پیدا کردی ہے۔

ان مسائل کی وجہ سے مجموئی طور پر ملکی  اداروں کی کارکردگی پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشرتی مسائل، معاشرتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہیں اور جب تک ان مسائل کی سنگینی کو سمجھا نہ جائے اور ان کے حل کے لئے بھر پور توجہ نہ دی جائے تب تک کسی بھی معاشرے میں امن و استحکام اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا نہیں ہوسکتی۔ جب معاشرتی مسائل کول نہ کیا جائے تو معاشرتی ترقی، معاشرتی ارتقاء اور معاشرتی تغیر کے عوامل رک جاتے ہیں جو مجموعی  طور پر معاشروں کو بہت پیچھے لے جاتے ہیں۔

Back to top button