AIOU

AIOU Solved Assignment 1 Code 404 Autumn 2021

سوال نمبر 1: خطبہ حجتہ الوداع انسانیت کے لیے زندگی کا پورا پور الائحہ عمل ہے۔ متن کی روشنی میں وضاحت کریں۔

جواب:خطبہ حجة الوداع حجة الوداع کا مطلب آخری حج ہے اس سے مراد وہ ہے جو حضورنے 10 ہجری میں ادا فرمایا اس کے کم و بیش دو ماہ بعد آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے اس لیے یہ آپکا آخری حج تھا۔ اس لیے اس چج کو حجة الوداع کہا گیا۔ آپ نے اس آخری حج کے موقع پر صحابہ کرام کے عظیم الشان اجتماع میں خطبہ ارشاد فر مایا ۔ اس خطے میں بھی آپ نے الوداعیہ کلمات کہے اور فرمایا اے لوگو! میری بات سن لو کیونکہ اسکے بعد اس جگہ آئندہ میری تم لوگوں سے ملاقات نہ ہو سکے گی ۔حضور اکرم کا یہی وہ تاریخی خطبہ جس میں اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ملتا ہے اس خطبے کو مسلمانوں کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کا منشور کہا جاسکتا ہے۔

خطبہ حجتہ الوداع کے نمایاں نکات

اس خطبے کے نمایاں نکات مندرجہ ذیل ہیں: حضرت نے خطے کا آغاز ایها الناس ۔اے لوگو سے کیا ہے اسکا مطلب یہ ہے

کہ آپ نے سارے انسانوں کو مخاطب فرمایا۔ آپ نے پھر انسانوں کی برابری پر زور دیا۔ اور فرمایا کہ تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے اس لیے رنگ نسل کی کوئی اہمیت نہیں گورے کو کالے پراور عربی کو بھی پر کوئی فضیلت نہیں  فضیلت کا معیار رنگ دل نہیں بلکہ پرہیز گاری ہے۔اس خطبے میں آپ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ یہ آپ کا آخری حج ہے۔رنگ نسل اور قبائل کی قیمت صرف ان کے لیے ہے۔ اس کا اور کوئی مقصدنہیں۔ آپ نے جاہلیت کے زمانے کی تمام رسموں کو باطل قرار دیا۔ اور سب سے پہلے ان پر خودعمل کیا اپنے ایک مقتول عزیز ربیعہ بن الحارث کا خون معاف کیا اور حضرت عباس کا جو لوگوں کے زدمیں تھا آپ نے وہ بھی معاف فرمادیا۔ آپ کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے آپ نے مسلمانوں کو دین کی بنیاد پر ایک رشتے میں پرویا اور وہ بھائی بھائی بن گئے ۔

جوامیر (حکمران) کتاب اللہ کے مطابق قیادت کرے اس کی اطاعت فرض قرار دی گئی۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو اور جان و مال کو حرام قرار دیا۔ مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں اور عورتوں کے مردوں پر۔ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ نے عورتوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہواروں کو ان کے حقوق دیے جائیں ایسی وصیت اور شرت سے منع فرمایا جس سے وارثوں کونقصان پہنچتا ہو۔ ہرشخص اپنے جرم کا زمہ دار خود ہے ۔ وہ اس کی سزاد نیاوآخرت میں خود بھگتے گا۔ آپ نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔ اس سے پہلے غلاموں کوسوسائی یامذہب نے  قوت نہیں دی تھے۔ اسلام آخری مذہب ،قرآن آخری کتاب اور مسلمان آخری امت ہیں۔

سوال نمبر2: نصاب میں دیئے گئے ایک خط کے متن کی روشنی میں اردومکتوب نگاری میں غالب کا مقام و مرتب متعین کریں۔

 جواب: غالب کی کتاب نگاری

ایک مکتوب نگار کی حیثیت سے غالب کو اردو کے تمام گزشتہ اور موجودہ مکتوب نگاروں پر فوقیت حاصل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اردو کے بہترین مکتوب نگار ہیں۔ یہ غالب ہی تھے جنہوں نے اردو میں خط لکھنے کے پرانے طریقوں کو ترک کر کے نئے  طریقوں کی بنیاد رکھی اور خطوں کو ایک خاص قسم کا دلچسپ اور زندہ ادب بنادیا۔غالب سے پہلے خطوط نہایت روایتی انداز میں لکھے جاتے تھے۔ عربی الفاظ میں  چوڑے القاب سے خط شروع کیا جاتا ، پھر اپنی خیریت لکھ کر مکتوب الیہ کی خیریت نیک مطلوب ہوتی ۔ اس کے بعد اصل مطلب لکھا جا تا ۔ آخر میں گھر بھر کی طرف سے سلام اور دعاکی جاتی ۔

غالب کا منفرد انداز

قالب جوروث عام پر چلنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ جنہیں وہاۓ عام میں مرنا بھی گوارا نہ تھا ۔ انہوں نے خط لکھنے کے مروجہ طریقوں کو خدا حافظ کہہ دیا ۔ انہوں نے القاب کو یا تو بہت مختصر کر دیا۔ یا ان کو اڑادیا اور پہلے ہی جملے سے اصل مطلب پر آ گئے ۔ غرضیکہ غالب کے خطوں میں پرانے تکلفات کم سے کم ملیں گے۔

مکالنے کا انداز

 غالب کے خطوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے خطوط میں بات چیت کا سادہ انداز ہے۔ اپنے خطوں کی اس خوبی کا احساس خود غالب کو بھی تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے ایک خط میں لکھا۔ میں نے مراسلے کو مکالمہ بنادیا ہے۔ اب ہزاروں سے گفتگو کیا کرو اور ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو ۔غالب کے بعض خطوط بالکل ڈرامائی مکالنے کی شکل میں ملتے ہیں اور غالب نے ڈرامائی مکا لے اس وقت لکھے جب اردو میں ڈرامے کا نام ونشان بھی نہ تھا۔

سادگی اور سلاست

 غالب نے اپنے خطوں میں جس طرح کی نثر استعال کی وہ تاریخی اعتبار سے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ادنی اعتبار سے تالب کے زمانے تک اردو نثر میں تکلف اورصنع بہت تھا۔ لوگ سیدھی سادی زبان میں لکھنا اور بات کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ غالب نے اپنے زمانے کے بکس سادگی اور سیاست اختیار کی ۔ چھوٹے چھوٹے جملے لکھے اور ایسے خوبصورت جملے لکھے۔ جوان کے شعروں کی طرح آسانی سے یاد رہ جاتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ غالب اردو کے چند بہترین نشر نگاروں میں سے ہیں ۔ ان کی ساده نگاری نے اردو نثر کی ترقی کا راستہ ہموار کر دیا ۔ زبان کی سادگی کے ساتھ جتنا اعلی در بہے کا اسلوب غالب کے یہاں ملتا ہے وہ اردو کے کسی اور ادیب کے یہاں نہیں ملا۔

خطوط غالب کی اہمیت

غالب کے خطوط تین اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اول تو اردو میں بہترین خطوط ہونے کے اعتبار سے ۔ دوسرے سوائی نقطہ نظر  سے غالب کے خطوط میں ان کی سوانح عمری پوشیدہ ہے۔ مولانا غلام رسول مہر نے غالب کے خطوط کو سوائی اعتبار سے ترتیب دے کر ان کی سوار مری مرتب کر دی ہے۔ غالب کے خطوط کی تیسری اہمیت یہ ہے کہ ان میں تاریکی مواد کشت سے ملا ہے۔ انھوں نے اپنے بہت سے خطوں میں اپنے زمانے کے حالات لکھے ہیں جو مورخین کے لیے قیمتی مواد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 3: آواز دوست کے دونوں مضامین” مینار پاکستان “اور قحط الرجال پر تبصرہ کریں۔

 جواب: آواز دوست کا خلاصہ

آواز دوست‘‘ مختار مسعود کی تصنیف ہے۔ ملی درد سے معمور یہ کتاب اپنے جاندار موضوع اور دلکش اسلوب کی بدولت بہت مقبول ہوئی ۔ مختار مسعود کی پرورش اور تعلیم علی گڑھ میں ہوئی ۔ ان کا تعلق علی گڑھ کے طلبہ کی اس نسل سےتھا جنھوں نے پاکستان کے تصور کو حقیقت بنتے دیکھا اور ایک جانثار فوج کی طرح قائد اعظم کا ساتھ دیا۔ ’’آواز دوست‘ دراصل ہماری کامرانیوں کا رزمی اور کوتاہیوں کا مرثہ ہے۔ آواز دوست دو مضامین مینار پاکستان اور قحط الرجال‘‘ کا مجموعہ ہے۔

مینار پاکستان

اس مضمون میں مصنف نے تحریک پاکستان کے پس منظر کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے ۔ حسن اتفاق سے مینار پاکستان کی تعمیر کے دوران مختار مسعود لاہور کے کمشنر تھے اور انھیں اس مینار کی میل تعمیر کے صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ تعمیر کے آغاز میں اس مینار کو یادگار پاکستان کہا جاتا تھا۔ لیکن یادگار کے لفظ میں چونکہ موت اور فنا کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس لیے مختار مسعود کی تجویز پر اسے مینار پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس مضمون میں مینار کی رعایت سے اہرام مصر سے لے کر ایفل ٹاور تک دنیا کے بہت سے میناروں کا ذکر آیا ہے اور ان کے طرز تعمیر اور مقاصد تعمیر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان میناروں کے حوالے سے ملت اسلامیہ کی تاریخ کے بعض اہم پہلو بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اس سے مصنف کے وسعت مطالعہ کے ساتھ احا دیث رددمندی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

مثلا یہ اقتباس ملاحظہ کریں۔  ’’جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہوجائیں۔ جہاد کی جگہ جموریت کی جگہ ایستکول جاتے ۔ ملک کے بجائے مفاد اورطت کے بجائے مصلحت عزیز ہو اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں ۔ میناروں کے بعد تحریک پاکستان کا ذکر آتا ہے ۔ مختار مسعود کے نزدیک مینار پاکستان کی بنیاد سی ای روز جھری گئی تھیں ۔ جس دن علی گڑھ کا بیج کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ قائد اعظم نے اپناتاریخی جملی گڑھی میں ایک تقر یر کے دوران کہا تھا کہ پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا۔ جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا“ مختار مسعود نے بڑے موثر انداز میں پاکستان کی حمایت و مخالفت کے قصے بیان کیے ہیں۔ تحریک پاکستان کے جوش و جذبے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے۔ ”مجھے خواجہ ناظم الدین کا ایک خط یاد آ گیا جو میں نے طالب علمی کے زمانے میں دیکھا تھا خواجہ صاحب نے اپنے لڑکے کو جو علی گڑھ میں پڑھ رہا تھا خط میں لکھا کہ تم کو چاہیے کہ تحریک پاکستان کے کام میں کوئی غفلت نہ ہو تم تو اگلے سال بھی امتحان میں بیٹھ سکتے ہو مگر قوم کا ایسا امتحان ہرسال نہیں آیا کرتا ‘‘

قحط الرجال

 یہ آواز دوست کا دوسرا مضمون ہے مضمون خاصا طویل اور کتاب کے تقریبا دو سو صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ 72-1971 میں مکمل ہوا۔ ہماری قومی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یعنی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا تعلق اسی دور سے ہے۔ آزمائش کے ایسے وقت میں اچھے لوگوں کی خاص طور محسوس ہوتی ہے۔ مختار مسعود نے بھی عظیم ہستیوں کے ذکر سے ایک محفل عبرت بر پا کر کے ہمیں قحط الرجال کا احساس دلایا ہے۔ قحط الرجال کی تشرت خود انھوں نے اس طرح کی ہے۔ قطر میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی  مرگ نبوۃ کا جشن ہو تو فقط، حیات بے مصرف کا ماتم ہوتو قحط الرجال اس میں آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار، مردم شناسی ہوتو نایاب طویل مضمون ان عظیم شخصیتوں کے تذکرے پر مشتمل ہے جن کے دستخط مختار مسعود نے بڑے اشتیاق سے اپنے آٹو گراف میں لیے۔ شخصیات کے انتخاب میں مختار مسعود نے ایک خاص معیار کا ہمیشہ خیال رکھا۔

اس لیے ان کے آٹو گراف البم اور قحط الرجال میں محمد ابراہیم شاکیوچن کے علاوہ بہادر یار جنگ ، ای۔ایم قاسٹر، ملا واحدی، حسرت موہانی ، مولانا ظفر علی خان ،سید عطاء اللہ شاہ بخار، نواب بھوپال ، راجہ صاحب محمود آباد، پروفیسر ٹائن بی ،سروجنی نائیڈو اور قائد اعظم جیسے عظیم لوگ ہی جگہ پا سکے ہیں۔ متر مسعود نے قحط الرجال میں شخصیتوں کے خاکے نہیں لکھے بلکہ ان عظیم شخصیتوں کی زندگیوں کے بعض روشن پہلو پیش کر کے ان کی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ اسلوب کی جادوگری فقط الرجال میں بھی نمایاں ہے۔ خوبصورت اور بولتے ہوئے جملے جگہ جگہ نظر آتے ہیں ۔ کچھ مثالیں ذیل میں دیکھیں:  ”جس سرحد کو اہل شہادت میسر نہ آ ئیں وہ مٹ جاتی ہے۔ جس آبادی میں اہل احسان نہ ہوں ۔ اسے خانہ جنگی اور خانہ بربادی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس دن کو اہل جمال کی خدمات حاصل نہ ہوں وہ خوش نما اور دیر پا نہیں ہوتا ۔‘‘

ایک اور اقتباس دیکھیے

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑے آدمی انعام کے طور پر دینے اور سزا کے طور پر روک لیے جاتے ہیں ۔ عطا تو اس کے حق میں ہوتی ہے۔ جو حقدار ہو۔ آخر قدرت ایک سپاس نا آشنا قوم کو بڑے آدمی کیوں عطا کرے۔ اسے اپنے عطیے کی رسوائی اور بے قدری نا گوار گزرتی ہے۔

سوال نمبر 4: پیر پنجال کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کر یں۔

کشمیر اداس ہے‘‘ کا موضوع اکتوبر 1947ء سے جنوری 1948ء کا درمیانی زمانہ ہے۔ یہ وہ نازک دور ہے جب مختلف محاذوں پر تعمیر کی جنگ جاری تھی۔ لیکن اس رپوٹ میں جنگ کے واقعات بہت کم بیان ہوئے ہیں البتہ اس جنگ کے جواثار لوگوں کے ذہن پر مرتب ہورہے تھے۔ محمود ہانی نے انھیں بڑی فنکارانہ ہنر مندی سے قلمبند کیا ہے۔ پیر پنچال کے قیدی‘‘ میں امین صاحب کا کمرہ ایک ایسی مرکزی جگہ ہے جہاں کشمیر کی سیاست سے تعلق رکھنے والا ہرشخص آتا ہے نیشنل کانفرنس کے امین صاحب جو ہندوستانی فوجیوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے اور کسی کو پاکستان یا قائد اعظم کا نام نہیں لینے دیتے۔ ہندوستان کی فوج بظاہر کشمیریوں کو پاکستانی حملہ آوروں سے نجات دلانے آئی لیکن اس کا کردار قابض فوج کا سا ہے۔ یہاں ہوم گارڈز ہیں جن کی اکثریت مسلمان ہے۔

مگر ان کے کمانڈر سب کے سب ہندو ہیں اور گارڈز پاکستان اور کشمیر کے مذہبی اور اقتصادی رشتوں سے آگاہ ہیں ۔ اور وہ بھی کبھی اس کا اظہار کر دیتے ہیں ۔ یہاں  بیان بھی ہے جسے اپنی ساری روشن خیالی کے باوجود پاکستان جانے والی سڑک کا نام تک نا گوارا نہیں ۔ کشمیر میں زبانی طور پر دو قومی نظریے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے لیکن عمل اسی پر ہورہا ہے۔ مسلمانوں کو صرف اس لیے تباہ کیا جارہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ کشی اداس ہے کی بطور پورکی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں لکھنے والے نے اپنی ذات کو ابھارنے کی کوشش بالکل نہیں کی ۔ محمود ہانی نے اکثر اپنے آپ کو پس پردہ رکھا ہے۔کشمیر اداس ہے‘‘ کا موضوع تاریخ بھی ہے اور سیاست بھی لیکن اس میں نہ تو تاریخ مورخانہ انداز میں بیان کی گئی ہے اور نہ سیاست کا بیان اخباری ہے۔ سیاست اور تاریخ دونوں کا بیان بڑی فنکاری سے ہوا ہے کرداروں اور واقعات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ان سے سیاست اور تاریخ کے رخ کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔ کشمیر اداس ہے‘‘ کے طرز بیان میں صراحت کی بجائے رمز و کنایہ کا استعمال زیادہ ہوا ہے لیکن کھانے بڑے واضح ہیں ۔ اس اسلوب نے اس رپوٹ کو ایک شاہکار بنا دیا ہے۔ پیر پنجال میں گندے انڈوں کے کھانے سے ہاشمی نے کیسی خوبصورت بات پیدا کی ہے۔انہی خصوصیات کی بنا پر اردو کی نامور ادیب اور نقادمتاز شیریں نے کشمیر اداس ہے‘ کو اردو کا بہترین رپوٹ قراردیا ہے اور یہ ساری خصوصیات پیر پنجال کے قیدی‘‘ میں بھی موجود ہیں۔

سوال نمبر 5: غالب کے درج ذیل غزلیات کی اپنے الفاظ میں تشرت کر یں۔

 الف۔ کہوں جوحال تم کہتے ہیں دعا کیسے

شعرنمبر1: کہوں جو حال تو کہتے ہو دا کہئے

 تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہئے

عاشق اور محبوب کے درمیان گفتگو ہورہی ہے۔ عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ جب میں تم سے اپنا حال دل کہتا ہوں تو تم کہتے ہو کہ تمہارا مطلب کیا ہے اپنا اصل مطلب بیان کرو۔ اب تم ہی بتاؤ کہ تمہارے اس سوال کے جواب میں کیا کہوں۔ لیکن تم جانتے ہو کہ بیان حال سے میرا  مطلب کیا ہے۔ لیکن جب تم جان کر انجان بنتے ہو میں کیا کہوں اس شعر میں غالب نے سادگی بیان کا کمال دکھایا ہے۔ عام طور پر البانی ساده زبان استعمال نہیں کرتے اور قاریر کیوں کی مدد سے وسیع مضمون کو فقر الفاظ میں ادا کر لیتے ہیں۔ لیکن یہاں انہوں نے قاری رکھیں استعمال کرنے کے باوجودنا مےڈے مضمون کو دوسروں میں ادا  کردیا ہے۔ دوسری خوبی اس شعر کی یہ ہے کہ اس میں جو صورت حال پیش کی گئی ہے وہ کیوں کی نفسیات کے مطابق ہے۔ آنا جو مطلب ہے اسے وہ صاف لفظوں میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ پر بھی محبوب اسے مجھ رہا ہے لیکن جان کر انجان رہا ہے اس کی شوخرات کا ایک پہلو ہے۔

شعر نمبرجیسے بزم میں ناز سے گفتار میں آوے

جس بزم میں تو ناز سے گفتارمیں آوے

جان کا لبد صورت دیوارمیں آوے

 لغت :  لغت گفتار میں آوے :باتیں کرنے لگے۔         کالبد: قالب یا جسم

تشریح

محبوب کی تعریف میں دنیا کی ہر زبان کی شاعری میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے۔ یہاں غالب بھی اپنے محبوب کی مبالغ میں تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ناز و ادا کے ساتھ جس محفل میں  تو باتیں کرے وہاں مکان کی دیواروں پر جو تصور میں گئی ہوئی ہیں ان کے قالب میں جان پڑ جائے کیونکہ تیری باتیں نہایت جان بخش ہوتی ہیں۔ ان کے ان سے بے جان چیزوں میں بھی جان پڑ سکتی ہے۔ شاعری میں اس طرح کا مبالغ معلوم نہیں ہوا مگر عام زندگی میں اس طرح کی باتیں بے تکی معلوم ہوتی ہیں۔ کشمیر اداس ہے‘ محمود ہائی کا لکھا ہوار پوٹ ہے۔

میرپور چار ابواب پرمشتمل ہے۔ جن کے نام ہیں ۔چناروں کی آگ پیر پنجال کے قیدی نفرت کے درمیان اور ایک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ ان چاروں کی آگ میں محمود ہا ئی نے مہاراجہ کے خلاف ہونے والی عام بات کو بیان کیا ہے۔ پیر پنجال میں ہمیں اس بغاوت کے رول کو ان تمام کرداروں کے اندر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ نفرت کے درمیان میں بتا دیا گیا ہے کہ ایک قومی نظر  کا پرچار کرنے والوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کالا و اس طرح پک رہا تھا۔ آخری باب میں جموں اور اس کے مسلمانوں کی تیانی کا خصوصی ذکر ہے۔ ان میں سے ہر حصہ اپنی جگہ پرمل ہے۔

Back to top button